Saturday, May 1, 2010

Aaj hamara, ya hai tumhara

محبت کھوجتی ھے
ھمارے آج میں باقی
تمھارے آج کا ھونا

محبت پوچھتی ھے
گزرے ھوے کلوں سے
تمھارا آج کیسا ھے
ھمارا آج کیسا ھے
گزارے کل بہت کچھ کہ رھے ھیں
مگر ھمارا آج
ھمارا آج کچھ خاموش سا ھے
ایک چپ سی سادھ رکھی ھے
کسی اٹھارویں صدی کی
آئل کینوس سے بنی
پورٹریٹ تصویر کی مانند

تمھارا آج
کے جس میں بسی ھیں خوشبوئیں
گزرے کتنے کلوں کی
جو اب بھی خبر رکھتا ھے
کے کتنے پھول اب بھی
اُس کو پانے کو ترستے ھیں

ھمارے آج کو دیکھو
کا جس نے فقط
امید کاغز پر
صرف خوشبوں کی تصویریں بنائیں ھیں
خیالوں سے

ھمارا آج
کسے معلوم
ھمارا ھے بھی
یہ فقط اپنا سا لگتا ھے
یے دیکھو کیسے
تمھارے آج سے نظریں چراءے
چھپ رھا ھے

تمھارا آج دیکھو اب بھی
سجا رھا ھے
ھمارے آج میں یہ گیت
کے جن کی دھنون کو
ابھی اک عمر لگنی ھے
مھبت کے مکینوں کو
سمجھنے میں

محبت کھوجتی ھے
ھمارے آج میں باقی
تمھارے آج کا ھونا

Saturday, January 30, 2010

لفظ سوچتے ھیں

لفظ سوچتے ھیں


لفظ
ﺧﻮﺍﮨشوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں

چپ بیٹھے ھیں،اب کچھ نھیں کہتے

کچی سوچیں کب سے ابل رہی ہیں

پکنے کا نام ھی نہیں لیتیں

جزبے بھرتے بھرتے زندگی کے غبارے کو پھاڑنے کے قریب ہیں

پھر بھی،ہمارے اندر کا بچہ

ان سب سے بے پروہ

خداؤں والے خواب دیکھنے میں گم رھتا ھے



لفظ سوچتے ھیں

سوچوں کے جزبات بےقابو ھیں

جزبے لفظوں سے بےدل ھو چکے ھیں

پر خواھش جانے کس کے انتظار میں زندہ ھے



اگر ایک پل کو،

ان خواھشوں کا بوجھ ھٹے

سوچیں پک کر منطقی انجام کو پہنچیں

جزبے ھواؤں میں اُڑیں

تو شاید ھمارے اندر کا بچہ بھی

خداؤں کے خوابوں کو چھوڑ کر

انسانوں کی دنیا میں آ بسے

لفظ پھر سے تروتازہ ھو کر

گھوڑوں کی طرح بھاگیں

سوچیں گیت بن کر لفظوں پر ناچیں

اور جزبے زندگی کو اس وادی تک لے جا سکیں

جہاں خوشی کا احساس کب سے ھمارا منتظر ھے