Sunday, March 4, 2012

waqt kee daur

وقت کی دوڑ

وقت کب سے بھاگ رہا ہے 
اور ہم وقت کو کب سے پکڑتے پکڑتے 
کتنی اجنبی جگہوں کے 
کتنے خوابوں کے گلستانوں سے
کتنی خواہشوں کے پھولوں کو روندتے 
اور کتنے محبّت کے سرابوں سے باتیں کرتے
گزر چکے ہیں 
 وقت ہے کے رکتا ہی نہی 
(اس وقت کی محبّت می دنیا کب تک گھومتی رہے گی)

وقت سے آگے بھاگنے والے
وقت کو ایک بھیانک کالا کتا سمجھ کر بھاگ رہے ہیں
اور پیچھے رہ جانے والے امید کے نشے میں 
دوڑے چلے جاتے ہیں 

ہم سب سے دور ایک کونے پر 
جب محبّت کے مکین 
 صراہی سے ہولے ہولے شراب انڈیلتے 
ترچھی نظروں سے وقت کے کارواں کو دیکھتے ہیں
اور وقت کے نا ہونے کا احساس دلاتے ہیں 
تو ہم ان سب کو ایک لفظ "پاگل پن " میں 
بند کر کے بھلانے کے کوشش کرتے ہیں 

کبھی کہبھے میں سوچتا ہوں 
شاید وہ بھی ہمیں دیکھ کر  یہی سوچتے ہیں
 

Half way to Kiliminjaro

(2011 Dec. Kilimianjaro)

This mountain of my mind,
this loneliness,soaked in green moss.
This  desire, as white as snow.
These little by little
disappearing footsteps of life

This me,
disappearing in the clouds of habitual living
Like disappearing of snow
on this great mountain.
Will it be able to forget the snow,
once it is gone?
Can snow, as white as desire be forgoten
Can loneliness,
as green as these mossy trees be forgiven?
"These woody thoughts, that forgive every one,
but forget nothing..."