وقت کی دوڑ
وقت کب سے بھاگ رہا ہے
اور ہم وقت کو کب سے پکڑتے پکڑتے
کتنی اجنبی جگہوں کے
کتنے خوابوں کے گلستانوں سے
کتنی خواہشوں کے پھولوں کو روندتے
اور کتنے محبّت کے سرابوں سے باتیں کرتے
گزر چکے ہیں
وقت ہے کے رکتا ہی نہی
(اس وقت کی محبّت می دنیا کب تک گھومتی رہے گی)
وقت سے آگے بھاگنے والے
وقت کو ایک بھیانک کالا کتا سمجھ کر بھاگ رہے ہیں
اور پیچھے رہ جانے والے امید کے نشے میں
دوڑے چلے جاتے ہیں
ہم سب سے دور ایک کونے پر
جب محبّت کے مکین
صراہی سے ہولے ہولے شراب انڈیلتے
ترچھی نظروں سے وقت کے کارواں کو دیکھتے ہیں
اور وقت کے نا ہونے کا احساس دلاتے ہیں
تو ہم ان سب کو ایک لفظ "پاگل پن " میں
بند کر کے بھلانے کے کوشش کرتے ہیں
کبھی کہبھے میں سوچتا ہوں
شاید وہ بھی ہمیں دیکھ کر یہی سوچتے ہیں
No comments:
Post a Comment